Hum sahibya ana hya guzal

ہم صاحبِ انا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے

مغرور، بے وفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


ہم کون ہیں ؟ کہاں ہیں؟ اسے بھول جائیے

جیسے بھی ہیں، جہاں ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


بہتر ہے ہم سے دور رہیں صاحبِ کمال

ہم صاحبِ خطا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


بہتر ہے فاصلے سے ہی گزرا کریں جناب

مفلس ہیں ہم، گدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


ہم آپ کے ہیں کون؟ ہمیں معاف کیجئے

ہم آپ سے جُدا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


ہم آپ سے خفا نہیں ہیں ، آپ جائیے!

خود ہی سے ہم خفا ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


ہم ہجر کا وصال ہیں ، پت جھڑ کی باس ہیں

ہم نیک بد گماں ہیں، ہمیں تنگ نہ کیجئے


کچھ بھی نہیں بچا ہے سیف اب ہمارے پاس

کچھ لفظ ہم نوا ہیں ہمیں تنگ نہ کیجئے#*╭─── ◈☆◈ ───

*

UYO TO HER SIMAT/ POETRY

یوں تو ہر سمت امداد کے بازار کھلے

تیرے آگے ہی مگر دستِ گناہگار کھلے


آپ نے جرم کیا!آپ کا سر کاٹیں گے 

آپ نے عشق کیا،آپ کی دستار کُھلے 


میرے تحفوں نے محبت کا بھرم توڑ دیا

چوڑیاں تنگ نکل آئیں اور ہار کٗھلے


Tanhai guzal

تنہائی


پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں 


راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا 


ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار 


لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ 


سو گئی راستہ تک تک کے ہر اک راہ گزار 


اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ 


گل کرو شمعیں بڑھا دو مے و مینا و ایاغ 


اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کر لو 


اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا 


فیض احمد فیض