Jab
khuab dekha gya 
خواب دیکھا گیا
ہم بھی آزاد ہوں
ہم بھی آباد ہوں
اہل ایمان کی
سرزمیں ہو الگ
خواب دیکھا گیا
جس کی تعبیر لانے کو سب اٹھ پڑے
خوردوپیر و جواں
عظمتوں کے نشاں
جراتوں کی زباں
ولولوں کی اذاں
کہکشاں ‘ کہکشاں
آسماں ‘ آسماں
ایک قائد کے پرچم تلے سب چلے
ایک قائد جسے
سب نے اپنا کہا
اپنا ‘ اپنا کہا
وہ محمد علی
آرزو کی کلی
روشنی بن گیا
زندگی بن گیا
سب مسلماں چلے ایک پرچم تلے
خواب پورا ہوا
اک وطن مل گیا
اک چمن مل گیا
بانکپن مل گیا
وہ محمد علی
جس کو بھیجا گیا تھا ‘ ہمارے لیے
آسمانوں کے سب
استعارے لیے
سبز پرچم کے
چاند تارے لیے
گلشنِ پاک کے
رنگ سارے لیے
اتحاد و یقین کے
سہارے لیے
پھول آشاؤں کے
ڈھیر سارے لیے
کچھ ہمارے لیے
کچھ تمہارے لیے
وہ محمد علی
آرزو کی کلی
ایک مدِ جری
ہم پہ سایہ فگن
کوہ و دشت و دمن
اور چمن در چمن
روشنی بن گیا
زندگی بن گیا