Batya huya lamya

بیتے ہوئے لمحات کو پہچان میں رکھنا 

مرجھائے ہوئے پھول بھی گلدان میں رکھنا 


کیا جانیں سفر خیر سے گزرے کہ نہ گزرے 

تم گھر کا پتہ بھی مرے سامان میں رکھنا 


کیا دن تھے مجھے شوق سے مہمان بلانا 

اور خود کو مگر خدمت مہمان میں رکھنا 


کیا وقت تھا کیا وقت ہے اس سوچ سے حاصل 

چھوڑو جو ہوا کیا اسے میزان میں رکھنا 


انسان کی نیت کا بھروسہ نہیں کوئی 

ملتے ہو تو اس بات کو امکان میں رکھنا 


پرسش ہے بہت سخت وہاں فرد عمل کی 

کچھ نعت کے اشعار بھی دیوان میں رکھنا 


مخلص ہو رہو ٹوکا ہے کس نے تمہیں انجمؔ 

رفتار زمانہ بھی مگر دھیان میں رکھنا


انجم خلی 

2:


دُنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں 

اک دلرُبا ھے ، دل میں جو حوروں سے کم نہیں


تُم بادشاہِ حُسن ھو حُسنِ جہان ھو 

جانِ وفا ھو اور مُحبت کی شان ھو

جلوے تُمہارے حُسن کے تاروں سے کم نہیں 

دُنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں


بُھولے سے مُسکراؤ تو ، موتی برس پڑیں 

پلکیں اُٹھا کے دیکھو تو کلیاں بھی ہنس پڑیں

خوشبو تُمھاری زُلف کی پھولوں سے کم نہیں 

دُنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں


دُنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں 

اِک دلربا ھے، دل میں جو حوروں سے کم نہیں ۔


قتیل شفائی